امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری، فوج کو الرٹ رہنے کی ہدایت
امریکی فوج کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے سینٹرل کمانڈ کو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے ضروری تیاریاں مکمل رکھنے کا کہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کے ممکنہ وقت پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ امریکی کارروائی میں ایران کے توانائی کے شعبے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایرانی جوہری تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتی ہیں۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق مختلف فوجی آپشنز تیار کرکے صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے حوالے سے تمام ممکنہ آپشنز صدر کے لیے دستیاب ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر موجود صورتحال کے باعث امریکا کو ایک مضبوط پوزیشن حاصل ہے۔ امریکی حکام کے مطابق روزانہ کروڑوں بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور کھلا ہے اور سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے کے ذریعے تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل جاری ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.