دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد مذاکرات کا بنیادی نکتہ تھا، کے پی حکومت نے انکار کیا: فیصل کریم کنڈی
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا ہے کہ مذاکرات میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ طور پر لڑنا واحد ایجنڈا تھا، تاہم صوبائی حکومت نے اس معاملے پر ساتھ دینے سے انکار کردیا۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کی اس حوالے سے کارکردگی صفر رہی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا نے یہ الزام بھی لگایا کہ صوبائی حکومت کو ہدایات شاید کابل سے موصول ہوتی تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گورنر راج کا نفاذ درست نہیں تو پھر ایل ایف او کی حمایت کو کس طرح درست قرار دیا جا سکتا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں۔
، اس لیے صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے۔فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے معدنی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے عالمی کمپنیوں کو خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری اور معدنیات کی تلاش و نکالنے کے منصوبوں میں شراکت داری کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دی کہ وہ صوبے میں امن کے قیام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں میں حصہ لیں۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.