ایران امریکا کشیدگی پھر جنگ میں بدلنے کا خدشہ، پاکستان اور چین کا سنگین نتائج سے خبردار
پاکستان اور چین نے ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں چینی مندوب نے خبردار کیا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ عالمی معیشت کو درپیش مشکلات بھی مزید بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو مسائل میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری معاملے پر دوہرے معیار سے گریز کیا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ ایران کے جوہری تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے بیانات اور اقدامات سے اجتناب کریں جن سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔
عثمان جدون کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاملے کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے مطابق بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری تنازع کا دیرپا اور پُرامن حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.