آج کا اخبار پڑھیں ای پیپر

ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی تیاری

Super Admin


وزارتِ پیٹرولیم نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا فارمولہ تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت ایل پی جی کی قیمتیں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طرز پر مقرر کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں امپورٹ پیریٹی پرائس (درآمدی لاگت کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین) کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، جس کا مقصد ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو محدود کرنا ہے۔ اس پالیسی کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ سے حاصل کی جائے گی۔
مجوزہ نظام کے ذریعے ایل پی جی کی مصنوعی قلت، من مانے نرخوں اور قیمتوں میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے ساتھ ماہانہ بنیادوں پر نرخ مقرر کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔ امپورٹ پیریٹی پرائس کے فارمولے میں سمندری نقل و حمل اور حادثات سے متعلق انشورنس اخراجات بھی شامل کیے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 70 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ زمینی راستوں سے پہنچتا ہے۔ 
مستقبل میں ایل پی جی کی درآمد کے لیے زمینی راستوں کے بجائے سمندری راستے کو ترجیح دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس کے تحت سعودی عرب اور عمان سے گیس درآمد کی جا سکتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتیں پہلے ہی سعودی کمپنی آرامکو کے نرخوں سے منسلک ہیں۔دوسری جانب اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری فی کلو قیمت 279 روپے 34 پیسے مقرر ہے، تاہم ملک کے مختلف شہروں میں صارفین کو یہی گیس 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔حالیہ درآمدی ایل پی جی کی سپلائی کے بعد لاہور میں قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 
شہر میں فی کلو ایل پی جی کے نرخ 50 روپے کم ہونے کے بعد تقریباً 550 روپے تک آ گئے ہیں۔حکام کی جانب سے تیار کی جانے والی نئی پالیسی کا مقصد قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانا اور صارفین کو غیر معمولی مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ تاہم مجوزہ فارمولے پر عمل درآمد اور اس کے اثرات کا انحصار پالیسی کی حتمی منظوری پر ہوگا۔
 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.