خیبر پختونخوا میں نیب کی تحقیقات تیز، مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کی خبریں بے بنیاد قرار
قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائریوں اور تحقیقات میں تیزی لانے کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات تیز کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے حال ہی میں خیبر پختونخوا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق اہم مقدمات کا جائزہ لیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ بیورو نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق یہ دعوے درست نہیں اور ان کی بنیاد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے تاثر کے برعکس ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیب خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات پر توجہ دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ ٹاک شو میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے اپر کوہستان کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اربوں روپے کے فراڈ سے متعلق جاری تحقیقات پر بھی گفتگو کی۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.