نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے، جن میں ایران کی جانب سے مختلف شرائط امریکی نمائندوں کے سامنے پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات تعمیری رہی۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ موجود ہے اور امریکا ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔دوسری جانب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے تفصیلی رابطہ ہوا۔
ان کے مطابق ثالثوں نے دن بھر دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور رابطے کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ مذاکرات کا ایک مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جس کے نتائج کو تعمیری اور امید افزا قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں سے بات چیت براہِ راست کے بجائے ثالثوں کے ذریعے ہوئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس کے دوران ایرانی وفد نے اپنی شرائط امریکی نمائندوں کے سامنے رکھیں۔رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور خطے میں تمام مزاحمتی محاذوں پر جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پیش کی ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔