واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی متوقع ہے۔ٹرمپ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ان کی گفتگو انتہائی کامیاب رہی، جس میں توانائی کی فراہمی سمیت مختلف اہم عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ گفتگو میں یوکرین تنازع کے حل کے امکانات اور ایران کی صورتِ حال بھی زیرِ بحث آئی۔کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس یوکرین کے معاملے پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے مناسب وقت کا جائزہ لے گا۔
اس موقع پر امریکی صدر نے ایران سے متعلق تنازع کے حل میں روس کے ممکنہ کردار کو بھی سراہا۔روسی صدر کا مؤقف تھا کہ امریکی مارکیٹ میں روسی تیل کی فراہمی سے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کریملن نے مزید بتایا کہ دونوں صدور نومبر میں چین میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے خواہش مند ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے جلد ایک اہم اعلان کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں جلد نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی جلد بڑی کمی متوقع ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال کا حل جلد سامنے آسکتا ہے۔تاہم، روس کی جانب سے ڈیزل کی مجوزہ فراہمی، اس کے شیڈول اور عالمی منڈی میں قیمتوں پر ممکنہ اثرات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔