چھبیسویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج: عدلیہ کی آزادی کو خطرہ؟
سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم چیلنج: آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل؟
چھبیس ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج چھبیس ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے ۔ چیف جسٹس کی تعیناتی حکومت کے پاس چلی گئی ۔ عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیکر کالعدم قرار دی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ۔ درخواست گزار کے مطابق جوڈیشل کمیشن پر ایگزیکٹو کا کنٹرول بڑھ گیا ۔ اگر سیاستدان ججز کی پرفارمنس رپورٹ مرتب کریں گے تو عدلیہ آزادانہ کیسے کام کرسکتی ہے۔ قبل ازیں سینیئر وکیل منیر اے ملک سمیت وکلا تنظیموں کے عہدیداروں نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج اور اسے ہر فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ ینیئر وکلا نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آئینی بینچ کو آئینی عدالت ہی کہیں گے اور یہ بینچ زیرِالتوا مقدمات کا حل نہیں۔ بلکہ اب تمام ججز انصاف کے بجائے پارلیمان کو خوش کرنے میں لگے رہیں گے۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
News
news baithak
today news paper
Multan news
Hindi news
head lines
نیوز Pakistan news
Editorial
Essay women day
Pakistan Urdu News
Multan Urdu News
Current Affairs
Pakistan Today
پاکستان نیوز
today news in urdu
afghanistan news
fox news Ukraine
abc news
google news
عدلیہ کی آزادی
درخواست گزار
سپریم کورٹ میں چیلنج
چھبیس ویں آئینی ترمیم
اختیارات کی تقسیم
تبصرے
Please keep the discussion respectful.