چیئرمین ایچ ای سی کا تعلیمی نظام کیساتھ کھلواڑ:طبی رخصت پر جانیوالی وی سی کی سربراہی میں سینڈیکیٹ اجلاس کرا دیا
وومن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بحران: ایچ ای سی اور وائس چانسلر تنازعہ
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار کا تعلیمی نظام کے ساتھ کھیلواڑ، طبی بنیاد پر رخصت پر گئی وائس چانسلر وومن یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر فرخندہ منصور کی سربراہی میں ایچ ای سی ہیڈ آفس میں یونیورسٹی سینڈیکیٹ اجلاس منعقد کروا دیا، اجلاس میں ڈاکٹر مختار کی خصوصی شرکت، سینڈیکیٹ ممبران کا اجلاس کے منٹس کی تصدیق سے انکار۔ ذرائع کے مطابق 5 اگست 2023 کو پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی کی بطور وائس چانسلر چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے آج تک یونیورسٹی مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے باوجود اس کے کہ پنجاب حکومت نے 14 فروری کو پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ منصور کو یونیورسٹی وائس چانسلر تعینات کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کاغذات میں ڈاکٹر فرخندہ نے چارج سنبھال لیا ہے مگر حقیقت میں ابھی تک پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہی یونیورسٹی معاملات چلا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فرخندہ کی تعیناتی میں موجودہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار کا کلیدی کردار ہے انہوں نے بتایا کہ جب ڈاکٹر فرخندہ کی تعیناتی کی جا رہی تھی تو ڈاکتر مختار بخوبی واقف تھے کہ صحت کے مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر فرخندہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ یونیورسٹی سنبھال سکیں لیکن یونیورسٹی موقع پر موجود نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر فرخندہ کی جوائنگ ڈاکٹر مختار نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کروائیان کا کہنا تھا کہ اس بیچ ڈاکٹر فرخندہ اسلام آباد میں زیر علاج رہیں اور ڈاکٹر مختار کی ایما پر پرو وائس چانلسر، وائس چانسلر بن کر معاملات چلاتی رہیں۔ یہاں تک کہ 11 اپریل کو گورنر نے ڈاکٹر فرخندہ کی 3 مارچ سے لیکر 28 اپریل تک کی چھٹی منظور کرتے ہوئے پرو وائس چانسلر کو یونیورسٹی کے معاملات روزانہ کی بنیادوں پر چلانے کا اختیار سونپ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر پراچہ اپنے گروپ کو نوازتے ہوئے اپنی مرضی سے تمام معاملت چلا رہی تھیں کہ اچانک پتہ چلا کہ ایکٹنگ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین کی بطور پروفیسر 4 اپریل کو ریٹائرمنٹ ہے جبکہ ڈاکٹر فرخندہ چھٹی پر ہیں اور پرو وائس چانسلرکے پاس ڈاکٹر میمونہ کو سینڈیکیٹ کے ذریعے دوبارہ ہائر کرنے کا اختیار نہیں ہے اس لئے ڈاکٹر فرخندہ کے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ سینڈیکیٹ کا اجلاس منعقد ہونا نہایت ضروری ہے جس پر ڈاکٹر مختار کی خدمات حاصل کی گئیں اور ڈاکٹر مختار نے سب جانتے بوجھتے یونیورسٹی انتظامیہ کو سینڈیکیٹ کا اجلاس 3 اپریل کو ایچ ای سی کے دفتر میں بلانے کا یہ کہتے ہوئے کہا کہ باقی معاملات وہ خود سنبھال لیں گے۔ یوں کسی یونیورسٹی کا سینڈیکیٹ اجلاس ایچ ای سی میں ڈاکٹر مختار کی موجودگی میں منعقد ہوا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے روز ڈاکٹر فرخندہ کی شدید علالت کے باعث چھٹی پر ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک ممبران نے اجلاس شروع ہونے کے کچھ دیر بعد اجلاس کو ملتوی کرنے کی سفارش کی تاہم اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نے اجلاس کے منٹس تصدیق کے لئے ممبران کو جاری کئے تو لا اینڈ پارلیمنٹری آفیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک خط موصول ہوتا ہے خط جس کی کاپی روزنامہ بیٹھک ک پاس بھی موجود ہے کے مطابق ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور لا اینڈ پارلیمنٹری آفیئرز ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے اجلاس کے آغاز میں ہی شدید نوعیت کا اعتراض جس کی تائید فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے نے بھی کی اٹھایا تھا کہ ڈاکٹر فرخندہ اپنی درخواست کے نتیجے میں 56 دن کی چھٹی پر ہیں لہذا وہ اس عرصے میں سینڈیکیٹ کی میٹنگ نہیں بلا سکتیں تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان اعتراضات کو منٹس کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ خط کے مطابق وہ مذکورہ میٹنگ کےایجنڈا نمبر 1، 2، 4، 8, 18، 25 اور ٹیبل آئیٹم نمبر 6 اور 10 کے حوالے سے جاری کردہ منسٹس پر اعتراضات بھیج رہے ہیںخط کے آخر میں ان اعتراضات کو منٹس کا حصہ بنانے کے ساتھ یہ لکھا گیا کہ ایجنڈا ایئٹمز کے نمبر اور فیصلے، فیصلوں سے متعلق تصویر کا صحیح رخ پیش نہیں کر رہے اس لئے متعلقہ حکام کی جانب سے فوری مداخلت اور مناسب اقدامات لینے کی صورت میں ضرورت ہے خط میں ڈاکٹر میمونہ کی ایک سال کے لئے بطور انگلش کی پروفیسر کی ری اپوائنٹمنٹ کی منظوری پر بھی شدید حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے 29 اپریل کو لکھے گئے۔ خط میں وائس چانلسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے 43 ویں اجلاس کے حوالے سے 14 اپریل کو ایک لیٹر لکھا گیا جبکہ اسی حوالے سے لا اینڈ پارلیمنٹری آفیئرز ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی اپنے متعدد خطوط میں اعتراضات اٹھائے ہیںسیکشن آفیسر شفقت علی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ انہیں ایک مرتبہ پھر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ (وائس چانسلر) کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 14 اپریل کو بھیجے جانے والے خط کے پیراگراف 4 کے تحت ترمیم شدہ منٹس کو تمام اعتراضات کے ساتھ سینڈیکیٹ کے ممبران کو کنفرمیشن کے لئے بھیج کر اس کے حوالے سے سٹیٹس کے متعلق آگاہی دینے کا کہیں جبکہ اس سلسلے میں اس وقت تک کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ جب تک تمام اعتراضات دور نہ کر لئے جائیں اور ترمیم شدہ منٹس کو تمام ممبران میں سرکولیٹ نہ کر لیا جائے قبل ازیں 28 اپریل کو بھی شفقت علی کی جانب سے اسی نوعیت کا ایک خط بطور ریمنائنڈر وائس چانسلر کو لکھا گیا اور انہیں ترمیم شدہ منٹس کے بارے آگاہی دینے کا کہا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فرخندہ نے تاحال یونیورسٹی کو جوائن نہیں کیا کیونکہ ان کا علاج جاری ہے اور سفر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیںایچ ای سی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مختار قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے کو معمولی کام سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے آرڈیننس کے خلاف جاتے ہوئے ایک اسال کی ایکسٹنشن لی اور یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر کا ایکٹنگ چارج بھی ڈاکٹر مختار نے سنبھال رکھا ہے جو یونیورسٹی ذرائع کے مطابق غیر قانونی ہے اور اس حوالے سے یونیورسٹی کے سابق لیگل ایڈوائزر نے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں بھی ڈاکٹر مختار کی ایما پر قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں روزنامہ بیٹھک نے جب ڈاکتر مختار، ترجمان ایچ ایس سی، پرو وائس چانسلر وومن یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور رجسٹرار وومن یونیورسٹی ڈاکٹر ملائیکہ کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
baithak
baithak news
news baithak
news today
اردو اخبار-Urdu News Paper
epaper today
Pakistan news
India
Hindi news
latest news
breaking news
news headlines
head lines
نیوز Pakistan news
Urdu News
Essay women day
Pakistan Urdu News
Multan Urdu News
Current Affairs
پاکستان نیوز
bbc news
pakistan news about girl
afghanistan news
fox news Ukraine
abc news
google news
ٕڈاکٹر مختار
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن
یونیورسٹی سینڈیکیٹ
ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختا
تبصرے
Please keep the discussion respectful.