پاکستان اور گھانا کے مابین دوطرفہ تجارت کا فروغ انتہائی ضروری (وائس قونصل جنرل عمر شاہد بٹ)
"گھانا میں تجارت کے مواقع: پاکستانی کاروباریوں کے لیے سنہری امکانات"
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان میں گھانا کے وائس کونسل عمر شاہد بٹ کا کہنا ہے کہ بہت سارے دیگر ممالک کے برعکس گھانا پاکستانیوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور پاکستانیوں کے لئے گھانا میں تجارت کرنے کے بے شمار سنہری مواقع میسر ہیں۔ بیٹھک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمر شاہد بٹ کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے ممالک جہاں پاکستانی خود کو پرسکون محسوس نہیں کرتے کے برعکس گھانا پاکستانیوں کے لئے ایک خوشگوار منزل ہے جہاں پاکستانیوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھانا قدرتی وسائل سے مالا مال ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس مضبوط جمہوری نظام اور پڑھی لکھی مین پاور ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا میں اوپن ڈور پالیسی نافذ العمل ہے جہاں کوئی بھی شخص کسی بھی حکومتی اہلکار یہاں تک کہ وزیر کو بھی آسانی سے مل سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا بہت پرامن ملک ہے جہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہے اور گھانا کا دارلحکومت اکرا اسلام آباد کی طرح کا شہر ہےان کا کہنا تھا کہ گھانا کو فنشڈ پراڈکٹس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ گھانا میں بڑی انڈسٹری نہیں ہے ۔ اس لئے گھانا کو پاکستان سے ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، فارماسوٹیکل یہاں تک کہ پاکستان ایکسپورٹ کے لائق جو اشیا بھی تیار کرتا ہے گھانا میں ان کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا کی آبادی تین کروڑ چالیس لاکھ کے قریب ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ گھانا کو ایک چھوٹی مارکیٹ تصور کرتے ہیں لیکن گھانا کو مغربی افریقہ کے گیٹ وے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جو کہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اس لئے اگر کوئی حقیقتا مغربی افریقہ کی مارکیٹ ایکسپلور کرنا چاہتا ہے تو گھانا ایک بہترین جگہ ہے۔ جہاں سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ماحول میسر ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا کے لوگ دوستانہ مزاج کے حامل ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھانا کے ہمسایہ ممالک میں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے اس لئے وہاں پاکستانیوں کے لئے ایکسپورٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہے جب کہ دوسری طرف گھانا میں انگریزی بولی جاتی ہے اس لئے گھانا میں دفتر کھولنا اور انگریزی سے مقامی زبان کے لئے مترجم کی خدمات حاصل کرکے گھانا کے تمام ہمسایہ ممالک میں ایکسپورٹ آسانی سے ممکن ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہت سارے پاکستانی ہیں جو اس طرح گھانا میں کاروبار کر رہے ہیں اور اچھا خاصا منافع کما رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ گھانا کے لئے ایکسپورٹ کے بہترین مواقع ہونے کے باوجود بدقسمتی سے پاکستان اور گھانا کا تجارتی حجم محض پانچ کروڑ ڈالر کے قریب ہے جو بہرکیف اس سے کئی گنا زیادہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی تیسرے ملک جیسے دبئی کے ذریعے گھانا ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اگر پاکستانی پراڈکٹس براہ راست گھانا ایکسپورٹ کی جائیں اور اس حوالے سے محنت کی جائے تو پاکستان کے پاس تجارت کے اچھے خاصے مواقع گھانا میں موجود ہیںان کا کہنا تھا کہ افریقہ کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت سارے افریقی ممالک دبئی کے ذریعے تجارت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان بھی افریقہ سے زیادہ دور نہیں ہے لیکن دبئی نے تجارتی حوالے سے اپنا مقام بنا لیا ہے انٹرنیشنل بائرز پاکستان خود نہیں آتے جبکہ یورپ اور افریقہ سے بائرز دبئی جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کھولی گئی کمپنی کے مقابلے میں دبئی میں کھولی جانے والی کمپنی کی اہمیت زہادہ ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ پاکستان میں مطلوبہ نظام کی عدم دستیابی ہےانہوں نے کہا کہ چائنیز، انڈینز اور دیگر قومیں جنہوں نے افریقین مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس کے لئے انوسٹمنٹ کی ہے ان ممالک نے افریقی ممالک کے ساتھ یونیورسٹی، ہسپتال بنا کر یا ان کے لئے تعلیمی مواقع پیدا کر کے اسٹریٹجک تعلقات بنائے اور جب آپ اس قسم کے تعلقات بناتے ہیں تو جواب میں وہ ممالک بھی آپ کو خوش آمدید کہتے ہیںان کاکہنا تھا تھا کہ پاکستان اور گھانا کے بیچ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان گھانا سے خام مال جیسے کاپر خرید سکتا ہے اور کیبلز بنا کر دوبارہ گھانا سمیت افریقہ کی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کر سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا عالمی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہے اور ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جو وہاں فیکٹریاں لگانا چاہتے ہیں گھانا پاکستانیوں کی جانب سے فارماسوٹیکل فیکٹری یا کوئی صنعت لگانے کو بھی خوش آمدید کہے گاان کا کہنا تھا کہ گھانا کے لوگ پاکستانی چاول خاص طور پر باسمتی چاول کو بہت پسند کرتے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گھانا میں اری 6 چاول جو کہ ٹوٹا چاول ہے بھی اچھے خاصے منافع پر بک جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا ایسے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی خوش آمدید کہے گا جو وہاں رائس ملز قائم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ٹیکنیکل مہارت رکھنے والے لوگ نوکری کے لئے جا سکتے کیونکہ گھانا میں پہلے سے ہی پاکستانی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اعلی عہدوں پر کام کر رہے ہیں اسی طرح آئل فیکٹریز میں بھی پاکستانی کام کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا پاکستان سے چاول گھانا یا افریقہ ایکسپورٹ کرنا قدرے مشکل عمل ہے کیونکہ وہاں اپنا وئیر ہاوس بنا کر خود بیچنا پڑتا ہے ان کا کہنا تھا کہ افریقی مارکیٹس میں چاول کریڈٹ کی بجائے کیش پر بکتا ہے اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر چاول خرید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گھانا میں پاکستانی کیمونٹی کے لوگ بہت کم ہیں جس کی بنیادی وجہ پاکستانیوں کا یورپ اور امریکہ جانے کا رحجان ہے ان کا کہنا تھا کہ گھانا میں مسلمان موجود ہیں لیکن ان کی تعداد کم اور رسوم و رواج پاکستانیوں سے یکسر جدا ہیں۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
baithak
baithak news
news baithak
news today
newspaper
اردو اخبار-Urdu News Paper
epaper
epaper today
city news
India
Hindi news
latest news
breaking news
news headlines
headlines
head lines
نیوز Pakistan news
Editorial
Essay women day
Current Affairs
پاکستان نیوز
bbc news
pakistan news about girl
today news in urdu
afghanistan news
fox news Ukraine
abc news
google news
وائس کونسل عمر شاہد بٹ
عمر شاہد بٹ
فنشڈ پراڈکٹس
بڑی انڈسٹری
ٹیکسٹائل
تبصرے
Please keep the discussion respectful.