سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے
ججز تبادلہ کیس کی سماعت، اسلام آباد ہائی کورٹ کے نظام پر سوالات
سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے جز تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز تبادلے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاد یئے گئے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کا یونیفائیڈ کیڈر ہے۔ پاکستان میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی کا یونیفائیڈ کیڈر نہیں ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے ججز تبادلہ کیس کی سماعت کی۔ ، جس میں وکیل حامد خان نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹس سے ججز کے ٹرانسفر پر بہت سارے نکات پر غور ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے میں غیر معمولی جلد بازی دکھائی گئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ انڈیا میں ججز کے ٹرانسفر میں جج کی رضا مندی نہیں لی جاتی۔ بلکہ وہاں ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی مشاورت ہے۔ ہمارے ہاں جج ٹرانسفر پر رضامندی آئینی تقاضا ہے۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
baithak news
اردو اخبار-Urdu News Paper
Multan news
Pakistan
India
Hindi news
latest news
breaking news
news bulletin
Editorial
Pakistan Urdu News
Current Affairs
پاکستان نیوز
bbc news
today news in urdu
russia news today. mlb lockout news
abc news
سپریم کورٹ
جسٹس شکیل احمد
جسٹس محمد علی مظہر
وکیل حامد خان
جسٹس نعیم اختر افغان
سنجیدہ سوالات اٹھا دیئے
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز
تبصرے
Please keep the discussion respectful.