ٹرمپ کسی فریق کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے، محکمہ خارجہ
کیا ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسئلہ کشمیر کا حل بن سکتی ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ ، لیکن وہ کسی بھی فریق کو یہ پیشکش قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس سے میڈیا بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ بھارت مسلسل صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کیوں کر رہا ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ ’جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے، ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کرے، وہ مدد کی پیشکش کرتے ہیں۔ ، اور یہ اس پر منحصر ہے کہ جس کو یہ پیشکش کی جا رہی ہے، وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں‘۔ یہ وضاحت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ، خاص طور پر گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جھڑپ کے بعد جس سے خطہ جوہری تصادم کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ، لیکن امریکا یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ اس کے اثر و رسوخ کی حدیں موجود ہیں۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
baithak
baithak news
اردو اخبار-Urdu News Paper
epaper
latest news
breaking news
Urdu News
Magazine News
Urdu Magazine
Pakistan Urdu News
Multan Urdu News
Current Affairs
Pakistan Today
پاکستان نیوز
bbc news
pakistan news about girl
afghanistan news
abc news
امریکی محکمہ خارجہ
محکمہ خارجہ
ترجمان ٹیمی بروس
مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش
تبصرے
Please keep the discussion respectful.