حکومت کو بڑا ریلیف، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے متعلق اختیارات بحال
وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی وہ دفعات بحال کر دی ہیں جو اس سے قبل کالعدم قرار دی گئی تھیں۔ ان دفعات کی بحالی کے بعد شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار دوبارہ حکومت کو حاصل ہو گیا ہے۔
عدالت نے حکومت کا شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال قرار دینے کا اختیار بھی بحال کر دیا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، حکومتی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
یہ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ آیا یہ معاملہ غیرقانونی طور پر بیرونِ ملک جانے (ڈنکی لگانے) سے متعلق ہے؟اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا تھا۔
، جہاں سے اسے ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان کے مطابق غیرقانونی اقدام کے باعث اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا، جس کے خلاف شہری نے عدالت سے رجوع کیا اور پاسپورٹ کی معطلی کو چیلنج کیا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.