پاکستان میں بڑھتے سیلابی خطرات، معیشت اور عوام کو سنگین چیلنجز درپیش
بین الاقوامی اداروں نے آنے والے مون سون سیزن سے قبل پاکستان میں سیلابی خطرات میں اضافے اور ممکنہ معاشی بحران سے خبردار کردیا ہے۔ یورپی یونین، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کی گئی نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کررہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، مون سون کے نظام میں غیرمعمولی تبدیلیاں اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ملک میں شدید سیلاب کے امکانات بڑھا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث پاکستان کو انسانی جانوں، معیشت اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بڑے نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسیسمنٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی آفات، خصوصاً سیلاب اور زلزلے، ہر سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو 3 سے 4 فیصد تک متاثر کررہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ملک مسلسل مالی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
مطالعے کے مطابق 2010 سے 2025 کے دوران مختلف سیلابی آفات نے پاکستان کو تقریباً 50 سے 55 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ 2010 کے تباہ کن سپر فلڈ سے لگ بھگ 10 ارب ڈالر جبکہ 2022 کے بدترین سیلاب سے تقریباً 30 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال معمول سے اوسطاً 23 فیصد زیادہ بارشوں کے باعث ملک کو 822 ارب روپے سے زائد کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.