اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کا منصوبہ، منتخب مقامی حکومت کے قیام کی تجویز
حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے نظامِ حکمرانی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
منصوبے میں منتخب علاقائی حکومت کے قیام، مختلف اداروں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کے بکھراؤ کے خاتمے، اور ایک مربوط "اسمارٹ سٹی" ماڈل کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد شہری سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور طویل المدتی شہری منصوبہ بندی کو مؤثر بنانا ہے۔
"آئی سی ٹی گورننس ماڈل" کے عنوان سے تیار کی گئی 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مرتب کی ہے، جس کی سربراہی Ahsan Iqbal نے کی۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بند انتظامی دارالحکومت سے بڑھ کر 24 لاکھ سے زائد آبادی والے بڑے شہری مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
، تاہم اس کے مطابق ادارہ جاتی اور انتظامی نظام مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کر سکا، جس کے باعث اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.