نکاح کے بعد مقررہ حقِ مہر سے محروم کرنا قانونی طور پر درست نہیں، عدالت عالیہ
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نکاح نامے پر دستخط ہونے کے بعد بیوی کو اس کے طے شدہ حقوق، خصوصاً حقِ مہر، سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ملتان بینچ کے جسٹس سلطان تنویر نے حقِ مہر میں دی گئی زمین سے متعلق تنازع پر خاتون کی درخواست کی سماعت کی۔
عدالت نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں زمین کے بدلے 16 لاکھ روپے ادا کرنے کو کافی سمجھا گیا تھا، اور مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا۔عدالتی حکم کے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور حقِ مہر کے طور پر دو ایکڑ زمین مقرر کی گئی تھی۔
بعد ازاں شوہر نے زمین منتقل کرنے کے بجائے اس وقت کی قیمت کے مطابق 16 لاکھ روپے ادا کر دیے، جبکہ ماتحت عدالت نے اس اقدام کو درست قرار دیا تھا۔تاہم لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نکاح نامے میں درج شرائط اور حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور بیوی کو اس کے طے شدہ حقِ مہر سے محروم کرنا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.