قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث، اپوزیشن کی تنقید اور حکومتی کارکردگی پر اختلافات
قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال کے بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اپوزیشن ارکان کی جانب سے حکومتی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ حکومتی اراکین بجٹ کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں کو زیادہ ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ عام شہری پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 2050 تک تقریباً 39 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو ایک سنگین سماجی و معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس ادا کرنے والے طبقے پر مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ملک میں بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آٹھ ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص اپنا گھر چلانے کے قابل ہو سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ غربت کی تعریف کے معیار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “نوجوان کی قیمت 32 روپے لگا دی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد میں سموسہ 40 روپے میں فروخت ہو رہا ہے”، جس سے مہنگائی اور معاشی دباؤ کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.