دہشت گردوں سے مذاکرات ممکن نہیں، ریاست ہمیشہ کھلے دروازے رکھتی ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان

Super Admin


وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، تاہم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بسوں سے معصوم شہریوں کو اتار کر ان کا قتل کرتے ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں؟
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک روشن اور بہتر مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن بعض عناصر اس پیش رفت سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے مطابق کچھ بیرونی طاقتیں دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں، اور اگر یہ سہارا ختم ہو جائے تو یہ تنظیمیں جلد ختم ہو جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک یہ گروہ ہتھیار نہیں ڈالتے، ان سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مذاکرات صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ممکن ہیں، اور پاکستان کو توڑنے کے مطالبے پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک بے مقصد لڑائی میں دھکیلا گیا ہے، اور جن بچوں کو گمراہ کرکے پہاڑوں کی طرف لے جایا گیا، انہیں واپس لانا ضروری ہے۔


 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.