2018 کے انتخابات پر سوال اٹھے تو ہر دور پر سوال اٹھے گا، موجودہ حکومت بھی قانونی ہے: وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آج احتجاج کا دن نہیں تھا، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دینے کا تصور افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018 کے انتخابات پر سوال اٹھائے جائیں تو پھر ہر دور پر بحث شروع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ آیا کوئی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں، اور سوال اٹھایا کہ کیا اس وقت دھاندلی نہیں ہوئی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018 کی حکومت کو قانونی تسلیم کیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت بھی قانونی ہے، اور اس بحث کو آگے بڑھایا گیا تو معاملہ بہت دور تک جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی یکجہتی اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام صوبوں میں ترقیاتی وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں اور فیصلے باہمی رضامندی سے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب دیگر صوبوں پر گیارہ ارب روپے خرچ کر رہا ہے اور ملک کی ترقی چاروں صوبوں کی ترقی سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اختلافی باتوں کو چھوڑ کر ایرانی صدر کے دورے کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق برجن اسٹاک میں سارا دن اور رات مذاکرات جاری رہے اور مشترکہ اعلامیہ وہیں تیار کیا گیا۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ساٹھ دن میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق عالمی میڈیا میں پاکستان کا مثبت کردار نمایاں ہوا ہے، جو عزت اور مقام ملک کو اربوں روپے خرچ کیے بغیر حاصل ہوا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.