بلوچستان میں دو روز کے دوران 5 زلزلے، مزید جھٹکوں کا خدشہ برقرار
بلوچستان میں گزشتہ روز سے اب تک درمیانی شدت کے پانچ زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ آج صبح بارکھان اور گردونواح میں بھی 5.2 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہیں، جہاں حالیہ زلزلے اسی پلیٹ کی اوپری سطح پر رونما ہو رہے ہیں۔
ان کے بقول دنیا کے مختلف حصوں میں آنے والے بڑے زلزلے بعض اوقات منسلک ٹیکٹونک پلیٹوں میں توانائی کی منتقلی کا باعث بنتے ہیں، جس سے دیگر علاقوں میں بھی زلزلے آ سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی توانائی کی لہریں بھی منسلک پلیٹوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2000ء سے 2011ء کے دوران انڈونیشیا میں آنے والے بڑے زلزلوں کے بعد خطے میں نمایاں زمینی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جن میں کشمیر کا تباہ کن زلزلہ بھی شامل تھا۔چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا تھا کہ جب تک زمین کے اندر پیدا ہونے والی توانائی مکمل طور پر خارج نہیں ہو جاتی، اس دوران مزید زلزلے آنے کا امکان موجود رہتا ہے۔
، تاہم سائنسی اعتبار سے کسی زلزلے کے درست وقت یا شدت کی پیش گوئی ممکن نہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سبی میں 4.2 جبکہ کوہلو میں 5 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ سبی میں زلزلے کی گہرائی 42 کلومیٹر اور کوہلو میں 18 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.