غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ، 10 جولائی تک مہلت
وفاقی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے 10 جولائی کو حتمی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ 10 جولائی سے قبل بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم تمام افغان شہریوں کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں اور دیگر کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو ارسال کرنا لازمی ہوگا۔ رپورٹ میں بغیر ویزا گرفتار کیے گئے افغان شہریوں کی تعداد، ان کے خلاف کی گئی کارروائی اور موجودہ قانونی حیثیت کی تفصیلات بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔س
رکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 24 لاکھ 62 ہزار افغان باشندوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جا چکا ہے۔ رواں سال مئی تک ایک لاکھ 43 ہزار 709 افراد وطن واپس روانہ کیے گئے، جبکہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 11 لاکھ 41 ہزار 700 افغان شہریوں کی واپسی عمل میں آئی۔ اس سے قبل 2024 میں 3 لاکھ 44 ہزار اور 2023 میں 4 لاکھ 73 ہزار 500 افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا تھا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.