عوامی مفاد میں زمین حاصل کرنا ریاست کا اختیار، مگر مناسب معاوضہ دینا آئینی تقاضا ہے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد کے پیشِ نظر زمین حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، تاہم جائیداد کے مالک کو منصفانہ اور مناسب معاوضہ دینا آئینی ذمہ داری ہے۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت ضرورت پڑنے پر مالک کی رضامندی کے بغیر بھی زمین حاصل کر سکتی ہے، لیکن یہ اختیار غیر محدود نہیں اور اسے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے استعمال کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے حقِ ملکیت اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں، تاکہ عوامی مفاد کے ساتھ ساتھ جائیداد کے مالکان کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زمین کے معاوضے کا تعین صرف سرکاری نرخوں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال اور مستقبل میں ترقی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر زمین کے حصول کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہو تو اس دوران زمین کی قیمت میں اضافے اور افراطِ زر کے اثرات کو بھی معاوضے کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ متاثرہ مالک کو حقیقی اور منصفانہ مالی ادائیگی مل سکے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.