نیب میں کرپشن کیسز کے دائرۂ اختیار سے متعلق نئی قانونی تشریح پر غور

Super Admin


قومی احتساب بیورو (نیب) بدعنوانی کے مقدمات کو دائرۂ اختیار سے باہر ہونے سے بچانے کے لیے قانون کی نئی تشریح پر غور کر رہا ہے۔ اس تجویز کا مقصد ایسے مقدمات کو برقرار رکھنا ہے جو مالی حد (فنانشل تھریش ہولڈ) میں اضافے کے باعث نیب کے دائرۂ اختیار سے خارج ہو سکتے ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تجویز نیب میں زیرِ غور ہے، جسے پالیسی فیصلے کے لیے جلد ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ جس طرح مہنگائی کے پیشِ نظر نیب کی مالی حد 500 ملین روپے سے بڑھا کر 800 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔
، اسی اصول کو مبینہ مالی نقصان کے تعین پر بھی لاگو کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اس تشریح کے تحت متاثرہ فریق کو ہونے والے مبینہ نقصان کی مالیت کو بھی مہنگائی کی شرح کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ متاثرہ فریق میں کوئی فرد، سرکاری ادارہ یا قومی خزانہ شامل ہو سکتا ہے۔
اگر اس تجویز کی منظوری دی جاتی ہے تو مالیاتی حد میں اضافے کے باوجود متعدد زیرِ التوا کرپشن مقدمات کو نیب کے دائرۂ اختیار میں برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.