وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: نسلہ ٹاور سمیت غیرقانونی تعمیرات سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کالعدم

Super Admin


وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں نسلہ ٹاور اور دیگر مبینہ غیرقانونی عمارتوں کی مسماری اور زمینوں کے اسٹیٹس میں تبدیلی پر عائد پابندی سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات واپس لے لیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ اپنے آئینی اختیارات کی حدود سے تجاوز کر گئی تھی۔
، جبکہ تعمیرات اور بلڈنگ قوانین کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کے پاس ہے۔10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ عدالت کا یہ فیصلہ کسی بھی غیرقانونی تعمیر کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ صرف آئینی اور قانونی دائرۂ اختیار کی وضاحت کرتا ہے۔
فیصلے کے مطابق نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے تمام احکامات واپس لے لیے گئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک عمارت سے متعلق تھا، جو بعد ازاں فریقین کے مطابق غیرموثر ہو چکا تھا۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران جاری کیے گئے تمام احکامات منسوخ کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا گیا۔
 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.