بنگلادیش میں خسرہ بے قابو، 6 ماہ کے دوران تقریباً ایک ہزار بچوں کی اموات
ڈھاکا: بنگلادیش کو خسرہ کی انتہائی سنگین وبا کا سامنا ہے، جہاں گزشتہ 6 ماہ کے دوران اس بیماری کے باعث تقریباً ایک ہزار بچوں کی اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔خسرہ ایک متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بیماری جسم کے مدافعتی نظام کو بھی کمزور کردیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران بنگلادیش میں 19 ہزار 835 افراد میں خسرہ کی تصدیق ہوئی، جبکہ ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد مشتبہ کیسز بھی سامنے آئے۔اعداد و شمار کے مطابق خسرہ کے شبہے میں ایک لاکھ 46 ہزار مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، جبکہ اسی عرصے کے دوران بیماری سے 999 بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔مسلسل بڑھتے مریضوں کے باعث اسپتالوں میں بھی گنجائش کم پڑنے لگی ہے اور طبی مراکز پر مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن مہم جاری ہونے کے باوجود حفاظتی اقدامات میں موجود خلا اور ویکسین کی ناکافی کوریج وبا کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔رپورٹ میں وبائی امراض سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بنگلادیش اس وقت دنیا کی شدید ترین خسرہ وباؤں میں سے ایک کا سامنا کررہا ہے، حالانکہ ماضی میں ملک خسرہ کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کرچکا تھا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.