یورپ اپنی سلامتی کا نیا فورم بنانے کی تیاری میں، اہم ممالک کو شمولیت کی دعوت
برسلز: یورپی یونین نے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یورپی سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کر دی۔یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے بدھ کو یورپی پارلیمنٹ میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران یورپ کی سلامتی کے لیے نئے فورم کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا۔مجوزہ یورپی سکیورٹی کونسل میں یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ، ناروے، یوکرین اور کینیڈا سمیت دیگر شراکت دار ممالک کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپ کو ہائبرڈ حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنا مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نئی سکیورٹی کونسل میں یوکرین، برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور دیگر شراکت دار ممالک بھی شامل ہوں گے۔یورپی کمیشن کی صدر نے ہائبرڈ حملوں کے خلاف مشترکہ ردعمل کو مؤثر بنانے کے لیے ایک نئے رابطہ کاری نظام کی تجویز بھی پیش کی۔یورپی حکام کے مطابق ہائبرڈ حملوں میں تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی غیر مجاز پروازوں جیسے واقعات شامل ہیں۔
، جن میں سے متعدد واقعات کا الزام روس پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں روایتی فوجی حملوں کے درجے تک نہیں پہنچتیں، تاہم یورپی ممالک کے مطابق ان سے براعظم کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ان تجاویز سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یورپی ممالک اپنی دفاعی اور سلامتی کی ذمہ داریوں میں زیادہ خود انحصاری کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس بحث میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نیٹو کے تحت یورپ کے لیے امریکی سکیورٹی کردار سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم مجوزہ سکیورٹی کونسل کے عملی ڈھانچے اور اختیارات کی تفصیلات تاحال مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر نئی کونسل کے کردار اور نیٹو کے موجودہ نظام میں واضح فرق نہ رکھا گیا تو اس کے نتیجے میں ذمہ داریوں کے حوالے سے ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.