سپریم کورٹ کی فوجی عدالتوں کو فیصلے سنانے کی اجازت، اہم حکم جاری
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو عام شہریوں کے ٹرائل کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی
سپریم کورٹ کی فوجی عدالتوں کو فیصلے سنانے کی اجازت سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو عام شہریوں کے ٹرائل کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے اس کیس پر سماعت کی۔ بینچ کے دیگر ججوں میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ سماعت کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا۔ آئینی بینچ نے کیس میں آج کی سماعت کا آرڈر جاری کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے۔ اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انہیں سزا سنانے پر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
News
baithak
baithak news
news baithak
newspaper
epaper today
city news
Multan news
Hindi news
breaking news
news bulletin
news headlines
Urdu News
Editorial
Urdu Magazine
Multan Urdu News
Current Affairs
bbc news
afghanistan news
abc news
سپریم کورٹ
عدالت
آئینی بینچ
جسٹس امین الدین خان
فیصلے سنانے کی اجازت
جسٹس جمال خان مندوخیل
زیرالتوا مقدمے
تبصرے
Please keep the discussion respectful.