سندھ طاس معاہدے کے ناقابل تردید حقائق سامنے آگئے

سندھ طاس معاہدے کے ناقابل تردید حقائق سامنے آگئے

دریائے چناب اور سندھ طاس معاہدے کے حقائق: سچ کیا ہے؟

1960 کے سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کو دریائے چناب پر 1.7 ملین ایکڑ فیٹ پانی سٹور کرنے کی اجازت ہے۔ ، اس وقت بھارت کے پاس دریاے چناب پر صرف 7 ملین ایکڑ پانی اسٹور کرنے کی کیپیسٹی ہے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کے پاس اب بھی دریائے چناب پر ایک ملین ایکڑ مزید پانی اسٹور کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن اسٹوریج نا ہونے کے باعث بھارت دریائے چناب کا ایک ملین ایکڑ پانی جو وہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق رن آف مِل پروجیکٹس کے لیے استعمال کر سکتا ہے، ۔ کو بھی اسٹور کرنے سے قاصر ہے۔بھارت اپنی عوام کو سیاسی چورن بچنے کے لیے میڈیا میں جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا چلاتا رہتا ہے کہ پاکستان کا پانی کم کردیا ہے یا روک دیا ہے ۔ جبکہ وہ 2025 میں بھی ایسا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.