ناسا کے جدید سپرسونک طیارے نے پہلی بار رفتارِ صوت کی حد عبور کر لی
ناسا کے جدید سپرسونک طیارے، جسے "سن آف کونکورڈ" قرار دیا جا رہا ہے، نے اپنی آزمائشی پرواز کے دوران پہلی بار کامیابی کے ساتھ آواز کی رفتار عبور کر کے ہوابازی کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل حاصل کر لیا۔
24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے اس طیارے نے آزمائشی پرواز کے دوران 700 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار حاصل کی اور سپرسونک پرواز کی صلاحیت کا کامیاب مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں انتہائی تیز رفتار فضائی سفر کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس کامیابی کے بعد لندن اور نیویارک کے درمیان سفر کا دورانیہ چار گھنٹے سے بھی کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جو 2003 میں مشہور سپرسونک طیارے کونکورڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سطحِ سمندر پر آواز کی رفتار عبور کرنے کے لیے تقریباً 760 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار درکار ہوتی ہے، جبکہ 40 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر فضائی دباؤ میں کمی کے باعث تقریباً 660 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی سپرسونک حد عبور کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ طیارہ مستقبل میں تیز رفتار، کم شور اور زیادہ مؤثر فضائی سفر کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے، جس سے عالمی فضائی صنعت میں ایک نئی تبدیلی کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.