حزب اللّٰہ اور ایران پر نئی کشیدگی، امریکہ و اسرائیل کی سخت بیانات کی وارننگ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے لبنان میں حزب اللّٰہ کو مسائل پیدا کرنے سے نہ روکا تو دوبارہ سخت حملے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طرزِ عمل نہ بدلا گیا تو ایران پر دباؤ بڑھایا جائے گا اور سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک ضرورت محسوس کی گئی اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج لبنان میں حفاظتی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب حزب اللّٰہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو لبنان میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ایران کے پارلیمانی سربراہ محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر صورتِ حال کے لیے تیار ہیں اور امریکی دھمکیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔
انہوں نے امریکہ کو اپنے بیانات میں احتیاط کرنے کا مشورہ دیا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم وہ یورینیم کی افزودگی کے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.