یمن تنازع سعودی عرب اور یو اے ای کشیدگی، پاکستان متحرک
یمن تنازع، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی، پاکستان متحرک
عرب اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ یو اے ای 24 گھنٹے میں یمن سے اپنی فوج کو واپس بُلا لے۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے۔ اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہبازشریف نے رحیم یار خان میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ جس دوران یمن کی صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ عرب اتحاد کے ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات سے ہتھیاروں کی کھیپ حضرموت پہنچائی جاری تھی ۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ یواےای یمنی حکومت کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹےمیں یمن سے فوج واپس بلائے۔ ، برادرملک کے اقدامات پر مایوسی ہوئی۔ سعودی عرب نے یمن میں جاری کشیدگی سعودی قومی سلامتی کیلئےخطرہ قرار دئ اور جیا جی قومی سلامتی سعودی عرب کی ریڈ لائن ہے۔ ، کسی بھی خطرے کا فوری اور موثر ردعمل دیا جائے گا۔ یو اے ای کے اقدامات یمن میں قیام امن کی کوششوں کی منافی ہیں ۔ یمن نے یو اے ای سے مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ۔ خبر کی تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔
News
baithak
news baithak
news today
newspaper
city news
Pakistan news
Multan news
Pakistan
Hindi news
latest news
breaking news
head lines
Urdu News
Magazine News
Urdu Magazine
Pakistan Urdu News
Multan Urdu News
Current Affairs
bbc news
pakistan news about girl
today news in urdu
afghanistan news
russia news today. mlb lockout news
abc news
google news
قومی سلامتی
وزیراعظم شہبازشریف
سعودی وزارت خارجہ
پاکستان متحرک
یمن تنازع
شیخ محمد بن زاید النہیان
ہتھیاروں کی کھیپ
قیام امن کی کوششوں
تبصرے
Please keep the discussion respectful.